Kahaf ka ghar
کہف — ایک ایسا غار جو پہاڑوں میں نہیں، انسان کے اندر ہوتا ہے
جمعہ کی اذان میں ایک عجیب کشش ہوتی ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہفتے بھر کی گرد آسمان سے نہیں، انسان کے دل سے جھڑ رہی ہو۔ صبح کی ہوا میں ایک نرمی، روشنی میں ایک لطافت اور وقت میں ایک عجیب سی برکت محسوس ہوتی ہے۔ شاید اسی لیے جمعہ کی صبح میرے لیے صرف ایک دن کا آغاز نہیں، بلکہ اپنے اندر واپس لوٹنے کا سفر ہوتی ہے۔
اس روز دنیا کی آوازیں دھیمی لگنے لگتی ہیں اور قرآن کی آواز دل کے زیادہ قریب محسوس ہوتی ہے۔
میں نے زندگی میں بے شمار لوگوں کی کہانیاں سنی ہیں۔ کسی کی آنکھوں میں جدائی تھی، کسی کی آواز میں خوف، کسی کے لہجے میں برسوں کی تھکن، اور کسی کے چہرے پر ایسی مسکراہٹ جو صرف دوسروں کے لیے تھی، اپنے لیے نہیں۔
کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ آخر انسان اتنا تھک کیوں جاتا ہے؟
آخر کون سا بوجھ ہے جو کندھوں پر نہیں، دل پر رکھا جاتا ہے؟
پھر آہستہ آہستہ احساس ہوا کہ انسان کو جسمانی محنت اتنا نہیں تھکاتی، جتنا روح کی مسلسل جنگ تھکا دیتی ہے۔
جب ہر روز کسی کی تلخ بات برداشت کرنی پڑے...
جب ہر لمحہ اپنے وجود کو ثابت کرنا پڑے...
جب ہر تعلق میں خود کو کھونا پڑے...
تب انسان کے اندر ایک خاموش چیخ جنم لیتی ہے۔
اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب اسے کسی "کہف" کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
---
ہم جب "غار" کا لفظ سنتے ہیں تو ذہن میں پہاڑ، پتھر اور تاریکی آتی ہے۔
لیکن وقت نے مجھے ایک اور حقیقت سکھائی۔
ہر غار پتھروں سے نہیں بنتا۔
کچھ غار سجدوں سے بنتے ہیں۔
کچھ آنسوؤں سے۔
کچھ خاموشیوں سے۔
کچھ قرآن کی تلاوت سے۔
اور کچھ اس یقین سے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے، چاہے پوری دنیا مجھے نہ سمجھے۔
مجھے یاد ہے، ایک دن کسی نے مجھ سے پوچھا تھا:
"آپ اتنی دیر اپنے کمرے میں اکیلی کیسے رہ لیتی ہیں؟"
میں نے مسکرا کر کہا تھا:
"میں اکیلی کہاں ہوتی ہوں؟"
وہ حیران ہو کر مجھے دیکھنے لگا۔
میں نے بات آگے بڑھائی نہیں، کیونکہ بعض جواب لفظوں سے نہیں، کیفیت سے سمجھے جاتے ہیں۔
---
ہم سب اپنی زندگی میں کسی نہ کسی دقیانوس سے ملتے ہیں۔
ضروری نہیں کہ وہ تاج پہنے بیٹھا ہو۔
آج کے دقیانوس سوٹ بھی پہنتے ہیں۔
اعلیٰ تعلیم بھی رکھتے ہیں۔
خوش اخلاق بھی دکھائی دیتے ہیں۔
اور کبھی کبھی ہمارے اپنے گھر میں رہتے ہیں۔
کبھی وہ ہماری عزتِ نفس کو زخمی کرتے ہیں۔
کبھی ہمارے ایمان کو کمزور کرتے ہیں۔
کبھی ہماری امید چھین لیتے ہیں۔
اور کبھی ہمیں یہ یقین دلا دیتے ہیں کہ ہم کچھ بھی نہیں ہیں۔
ایسے لوگوں کے سامنے خاموش ہو جانا اکثر لوگ بزدلی سمجھتے ہیں۔
لیکن میں نے سیکھا ہے کہ ہر خاموشی شکست نہیں ہوتی۔
کچھ خاموشیاں حکمت ہوتی ہیں۔
ہر جنگ لڑنا بہادری نہیں ہوتی۔
بعض اوقات وہاں سے ہٹ جانا زیادہ بڑی بہادری ہوتی ہے جہاں آپ کا ایمان، آپ کا سکون اور آپ کی شخصیت مسلسل زخمی ہو رہی ہو۔
---
مجھے سورۂ کہف کے نوجوانوں میں صرف ایک تاریخی واقعہ نظر نہیں آتا۔
مجھے ان میں ہر دور کا وہ انسان دکھائی دیتا ہے جو حق پر قائم رہنے کی قیمت ادا کرتا ہے۔
میں سوچتی ہوں...
وہ بھی تو نوجوان تھے۔
ان کے بھی دوست ہوں گے۔
ان کے بھی خواب ہوں گے۔
انہوں نے بھی کبھی آئینے میں خود کو دیکھا ہوگا۔
انہوں نے بھی زندگی کے رنگ دیکھنے چاہے ہوں گے۔
وہ بھی چاہتے ہوں گے کہ زندگی عام لوگوں کی طرح گزرے۔
لیکن جب ایک طرف خواہشیں ہوں اور دوسری طرف ایمان...
تب فیصلہ آسان نہیں رہتا۔
انہوں نے ایمان چنا۔
اور اللہ نے انہیں تاریخ میں زندہ کر دیا۔
---
ہماری آزمائشیں شاید ان جیسی نہ ہوں، مگر ہمارے فیصلے ضرور ان جیسے ہو سکتے ہیں۔
جب حرام روزی سامنے ہو اور ہم انکار کر دیں...
جب غیبت کی مجلس سے اٹھ جائیں...
جب ظلم سہنے کے بجائے باوقار فاصلے قائم کر لیں...
جب نماز کے لیے مصروفیت چھوڑ دیں...
جب فجر کے لیے نیند قربان کر دیں...
تب ہم بھی اپنے اندر ایک چھوٹا سا "کہف" تعمیر کر رہے ہوتے ہیں۔
---
ایک وقت تھا جب میں سمجھتی تھی کہ مضبوط انسان وہ ہے جو ہر تعلق نبھا لے۔
پھر زندگی نے سکھایا کہ مضبوط وہ ہوتا ہے جو پہچان لے کہ کون سا تعلق اسے اللہ سے قریب کر رہا ہے اور کون سا دور۔
ہر دروازہ کھلا رکھنا سخاوت نہیں۔
کچھ دروازے بند کرنا بھی عبادت بن جاتا ہے۔
اگر ان کے کھلے رہنے سے ایمان خطرے میں پڑ جائے۔
---
مجھے ہمیشہ حیرت ہوتی ہے کہ ہم اپنے گھروں کے لیے کتنی حفاظت کرتے ہیں۔
دروازے مضبوط بنواتے ہیں۔
تالے بدلتے ہیں۔
سی سی ٹی وی لگواتے ہیں۔
لیکن دل کے دروازے؟
انہیں ہر آنے والے کے لیے کھول دیتے ہیں۔
پھر شکایت کرتے ہیں کہ سکون کیوں چلا گیا۔
حالانکہ سکون بھی ایک امانت ہے، اس کی حفاظت بھی ضروری ہے۔
---
قرآن بار بار انسان کو باہر کی دنیا سے زیادہ اندر کی دنیا سنوارنے کی دعوت دیتا ہے۔
شاید اسی لیے ہر جمعہ جب سورۂ کہف پڑھتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ میں صرف الفاظ کی تلاوت نہیں کر رہی، بلکہ اپنے اندر کے ٹوٹے ہوئے کمروں کی مرمت کر رہی ہوں۔
ایک آیت میرے خوف کو سہارا دیتی ہے۔
دوسری امید جگاتی ہے۔
تیسری مجھے دنیا کی حقیقت یاد دلاتی ہے۔
اور چوتھی آخرت کی طرف متوجہ کر دیتی ہے۔
پھر یوں لگتا ہے جیسے دل پر جمی ہوئی گرد بارش میں بہہ گئی ہو۔
---
ہم اکثر کہتے ہیں:
"ہمیں اپنی دنیا بچانی ہے۔"
لیکن شاید اصل سوال یہ ہے:
"ہمیں اپنا ایمان کیسے بچانا ہے؟"
ہم رزق کے لیے جاگتے ہیں، مگر فجر کے لیے نہیں۔
ہم لوگوں کو خوش رکھنے کے لیے وقت نکالتے ہیں، مگر قرآن کے لیے نہیں۔
ہم جسم کی غذا کا خیال رکھتے ہیں، مگر روح کی بھوک بھول جاتے ہیں۔
پھر حیران ہوتے ہیں کہ دل بے چین کیوں ہے۔
---
شاید سکون کا راز یہ نہیں کہ زندگی میں مسئلے ختم ہو جائیں۔
بلکہ یہ ہے کہ انسان کو ایک ایسی جگہ مل جائے جہاں وہ ہر مسئلے کے ساتھ بھی مطمئن رہ سکے۔
میرے لیے وہ جگہ کبھی جائے نماز ہے۔
کبھی قرآن کا کھلا ہوا صفحہ۔
کبھی جمعہ کی خاموش صبح۔
اور کبھی اللہ سے کی گئی وہ دعا جسے کوئی انسان نہیں سنتا، مگر آسمان سن لیتا ہے۔
---
آج مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اللہ ہر مومن کو ایک نہ ایک "کہف" ضرور عطا کرتا ہے۔
کسی کو ماں کی آغوش کی صورت میں۔
کسی کو ایک صالح دوست کی شکل میں۔
کسی کو علم کی محفل میں۔
کسی کو سجدے میں۔
اور کسی کو آزمائشوں کے بعد ملنے والی تنہائی میں۔
کیونکہ بعض اوقات اللہ انسان کو لوگوں سے دور نہیں کرتا، بلکہ اپنے قریب بلانے کے لیے دنیا کا شور کم کر دیتا ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ کچھ تنہائیاں سزا نہیں ہوتیں، رحمت ہوتی ہیں۔
اور کچھ خاموشیاں محرومی نہیں، اللہ کی طرف سے عطا کردہ پناہ ہوتی ہیں۔
اس دن میں نے دل ہی دل میں دعا کی:
"اے میرے رب! اگر کبھی میری زندگی میں بھی کوئی ایسا وقت آئے جب ہر راستہ بند دکھائی دے، تو مجھے کسی پہاڑ کے غار کی نہیں، اپنے قرب کی پناہ عطا فرمانا۔ میرے دل کو ایسا کہف بنا دینا جہاں ایمان محفوظ رہے، امید زندہ رہے، دعا جاری رہے، اور تیری محبت ہر خوف پر غالب آ جائے۔
مجھے ان لوگوں میں شامل کرنا جو دنیا سے نہیں، گناہ سے بھاگتے ہیں... جو تنہائی سے نہیں ڈرتے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ تنہائی میں بھی تو اپنے رب کی معیت نصیب ہو سکتی ہے۔
اور جب کبھی جمعہ کی صبح آئے، تو میرے دل کو پھر سے سورۂ کہف کی روشنی عطا کرنا، تاکہ میں ہر ہفتے اپنی روح کو نئے سرے سے زندہ کر سکوں۔
آمین یا رب العالمین۔"

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں