افسانہ: میری نماز
افسانہ: میری نماز
مغرب کی اذان کی آواز فضا میں پھیل رہی تھی۔ آسمان پر شام کی سرخی آہستہ آہستہ نیلگوں اندھیرے میں ڈھل رہی تھی۔ پرندے اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹ رہے تھے اور ہوا میں ایک عجیب سی خاموشی تھی، مگر اس خاموشی کے برعکس مریم کے اندر ایک شور برپا تھا۔
وہ ابھی ابھی واک کرکے گھر واپس آئی تھی۔ عام دنوں میں واک کے بعد وہ خود کو ہلکا، تازہ دم اور پُرسکون محسوس کرتی تھی، لیکن آج کچھ مختلف تھا۔ جسم میں تھکن نہیں تھی، مگر دل جیسے بے جان ہو گیا تھا۔ ذہن کسی کام میں لگنے کو تیار نہیں تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے اندر کی ساری توانائی کسی نے اچانک کھینچ لی ہو۔
اذان ختم ہو چکی تھی۔
گھر میں ہر چیز اپنی جگہ موجود تھی۔ دیوار پر لگی گھڑی خاموشی سے وقت بتا رہی تھی۔ صحن میں رکھا گملوں کا پودا ہلکی ہوا میں جھول رہا تھا، مگر مریم کی نگاہیں ان سب چیزوں سے بے نیاز تھیں۔
"اٹھو... مغرب کا وقت ہو گیا ہے۔"
اس نے خود ہی اپنے آپ سے کہا، مگر دل نے جواب دیا:
"آج نہیں... ابھی نہیں... تھوڑی دیر بعد..."
وہ صوفے پر بیٹھ گئی۔
چند لمحوں بعد اس نے محسوس کیا کہ اگر وہ اسی طرح بیٹھی رہی تو وقت نکل جائے گا۔ وہ جانتی تھی کہ نماز مؤمن کی زندگی کا ستون ہے، اسے کسی بھی حال میں چھوڑا نہیں جا سکتا۔ لیکن یہ جان لینا اور دل کا اس پر آمادہ ہونا، دونوں الگ الگ کیفیتیں تھیں۔
اس نے گہرا سانس لیا اور آہستہ آہستہ وضو خانے کی طرف چل پڑی۔
ہر قدم ایسے اٹھ رہا تھا جیسے کسی چھوٹے بچے کو زبردستی ہوم ورک کرنے کے لیے میز تک لے جایا جا رہا ہو۔
نل کھولا۔
ٹھنڈا پانی ہاتھوں پر گرا۔
اس نے خود کو سمجھانے کی کوشش کی۔
"دیکھو مریم... یہ پانی اللہ کی نعمت ہے۔ اسے محسوس کرو۔"
اس نے دونوں ہاتھ دھوئے۔
کلی کی۔
ناک میں پانی ڈالا۔
چہرے پر پانی کے قطرے پڑے تو لمحہ بھر کے لیے تازگی محسوس ہوئی۔
اس نے آہستہ سے مسکرا کر کہا،
"واقعی وضو کتنی خوبصورت عبادت ہے۔"
لیکن وضو مکمل ہونے کے باوجود دل میں وہ شوق پیدا نہ ہو سکا جس کی اسے تلاش تھی۔
ایسا پہلی بار نہیں ہوا تھا۔
زندگی میں کئی مرتبہ انسان کا جسم عبادت کے لیے تیار ہوتا ہے مگر دل کہیں پیچھے رہ جاتا ہے۔
وضو کے بعد وہ جائے نماز کی طرف بڑھی، مگر پھر رک گئی۔
"نہیں... آج کچھ بدلنا ہوگا۔"
وہ کچن میں گئی۔
اپنے لیے پانی کا گلاس بھرا۔
اس میں کولر کا ہلکا سا ٹھنڈا پانی ملایا۔ وہ عام طور پر نیم گرم پانی پیتی تھی، مگر آج دل چاہا کہ شاید یہ چھوٹی سی تبدیلی طبیعت کو بدل دے۔
چند گھونٹ پینے کے بعد واقعی کچھ تازگی محسوس ہوئی، مگر وہ کیفیت ابھی بھی نہیں آئی تھی۔
وہ صحن میں آگئی۔
شام کی ٹھنڈی ہوا اس کے چہرے سے ٹکرائی۔
آسمان پر پرندوں کی آخری ٹولیاں اڑ رہی تھیں۔
اس نے سوچا،
"روز اسی جگہ نماز پڑھتی ہوں، آج صحن میں پڑھتی ہوں۔"
وہ دوسرے کمرے سے جائے نماز لینے چلی گئی۔
جائے نماز اٹھاتے ہوئے اچانک ایک خیال بجلی کی طرح اس کے ذہن میں آیا۔
"یہ... میری نماز ہے۔"
وہ چند لمحوں کے لیے رک گئی۔
پھر اس نے خود سے بات کرنا شروع کی۔
"میں کتنے شوق سے اپنا موبائل سنبھالتی ہوں۔"
"اپنی کتابوں کی حفاظت کرتی ہوں۔"
"اپنے کپڑوں کا انتخاب کرتی ہوں۔"
"اپنے بینک اکاؤنٹ کی فکر کرتی ہوں۔"
"اپنی ہر پسندیدہ چیز کو اہمیت دیتی ہوں۔"
"تو پھر یہ نماز... جو میرے اور میرے رب کے درمیان سب سے قیمتی تعلق ہے... اسے میں صرف ایک فرض سمجھ کر کیوں ادا کروں؟"
اس نے جائے نماز کو سینے سے لگا لیا۔
آہستہ سے بولی،
"یہ میری نماز ہے... میری ملاقات ہے... میرے رب نے مجھے بلایا ہے۔"
بس اتنا کہنا تھا کہ دل کی دنیا بدلنے لگی۔
جیسے کسی نے اندر ایک چراغ روشن کر دیا ہو۔
جیسے بند دروازہ آہستہ آہستہ کھلنے لگا ہو۔
وہ صحن میں آئی۔
جائے نماز بچھائی۔
ہوا میں مٹی کی خوشبو تھی۔
دور کسی مسجد سے قرآن کی تلاوت کی ہلکی آواز آ رہی تھی۔
اس نے ہاتھ باندھے۔
"اللہ اکبر۔"
اس مرتبہ الفاظ صرف زبان سے ادا نہیں ہوئے تھے بلکہ دل بھی ان کے ساتھ کھڑا تھا۔
پہلی رکعت میں اسے محسوس ہوا جیسے دنیا کے سارے بوجھ کندھوں سے اتر رہے ہوں۔
رکوع میں دل جھک گیا۔
سجدے میں آنکھیں نم ہو گئیں۔
وہ دعا کرتی رہی۔
"یا اللہ! جب میرا دل سست ہو جائے تو مجھے اپنے دروازے سے دور نہ ہونے دینا۔ میری عبادت کی لذت مجھ سے کبھی نہ چھیننا۔ اگر میں کمزور پڑ جاؤں تو اپنی رحمت سے مجھے پھر اپنی طرف کھینچ لینا۔"
نماز ختم ہوئی تو اس نے سلام پھیرا۔
وہ دیر تک جائے نماز پر بیٹھی رہی۔
آج اس نے ایک بہت قیمتی سبق سیکھا تھا۔
محبت ہمیشہ پہلے محسوس نہیں ہوتی، کبھی کبھی محبت عمل کے بعد پیدا ہوتی ہے۔
کبھی صرف ایک اچھا خیال...
کبھی ماحول کی ایک معمولی تبدیلی...
کبھی اللہ کو پکارنے کی ایک چھوٹی سی کوشش...
اور کبھی صرف یہ احساس کہ "یہ میری نماز ہے"، دل کی دنیا بدل دیتا ہے۔
اس نے اپنی ڈائری نکالی اور لکھا:
"ہر نماز میں یکساں کیفیت نہیں ہوتی۔ کبھی دل دوڑتا ہوا جاتا ہے، کبھی قدم گھسیٹ کر جاتے ہیں۔ مگر اصل کامیابی یہ نہیں کہ ہر بار شوق سے نماز پڑھی جائے، بلکہ یہ ہے کہ شوق نہ ہونے کے باوجود بھی نماز نہ چھوڑی جائے۔ کیونکہ جو بندہ اپنے رب کی طرف ایک قدم بڑھاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے دل میں سکون، محبت اور نور کے دروازے کھول دیتا ہے۔"
اس نے ڈائری بند کی، آسمان کی طرف دیکھا اور مسکرا دی۔
آج مغرب کی نماز نے اسے ایک نئی حقیقت سکھائی تھی۔
عبادت کا سب سے خوبصورت لمحہ وہ نہیں جب دل خود بخود مائل ہو، بلکہ وہ ہے جب بندہ اپنے بے دل ہونے کے باوجود بھی اللہ کی طرف چل پڑے۔ کیونکہ اکثر راستے میں ہی محبت مل جاتی ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں