افسانہ: خاموش جنگل کی گونج


 

افسانہ: خاموش جنگل کی گونج

آنکھیں بند تھیں، اور سانسیں آہستہ آہستہ جیسے کسی پوشیدہ تال پر چل رہی تھیں۔ باہر کی دنیا پیچھے رہ گئی تھی، اور اندر ایک اور ہی کائنات کھل رہی تھی—لفظوں کی کائنات، احساسات کی کائنات، اور ایک ایسی خاموشی جو شور سے زیادہ بولتی تھی۔

ذہن کی راہداریوں میں چمکتے ہوئے لفظ ستاروں کی طرح بکھرے ہوئے تھے۔ وہ آگے آگے دوڑ رہے تھے، اور میں ان کے پیچھے پیچھے کسی انجانی سی کیفیت میں چلتی چلی جا رہی تھی۔ جیسے کوئی مجھے بلائے بھی نہیں اور میں پھر بھی اس آواز کے پیچھے چل پڑوں۔

پھر اچانک وہ راستہ بدل گیا۔

لفظوں کی روشنی ایک گھنے جنگل میں جا گری۔ ایسا جنگل جو خوبصورت بھی تھا اور پراسرار بھی۔ درخت اونچے تھے، مگر ان کی چھاؤں میں ایک عجیب سی اداسی بسی ہوئی تھی۔ ہوا ٹھہری ہوئی تھی، جیسے کسی بڑی خبر کے انتظار میں ہو۔

اور اسی جنگل کے درمیان وہ الفاظ کھڑے تھے…

“فَأَجَآءَهَا الْمَخَاضُ إِلَىٰ جِذْعِ النَّخْلَةِ…”

میں رک گئی۔

یہ کوئی عام جملہ نہیں تھا۔ یہ تو جیسے وقت کے سینے سے نکلتا ہوا ایک درد تھا، جو صدیوں سے سانس لے رہا تھا۔ ہر لفظ ایک کہانی تھا، اور ہر کہانی کے اندر ایک خاموش چیخ۔

میں نے نظر اٹھائی۔

جیسے ہی جنگل کی گہرائی میں دیکھا، ایک منظر ابھرا۔ ایک نوجوان، پاکیزہ، اور نہایت معصوم چہرہ۔ وہ کسی عام انسان جیسا چہرہ نہیں تھا—اس میں حیا بھی تھی، گھبراہٹ بھی تھی، اور ایک ایسی تنہائی بھی جو لفظوں میں نہیں آ سکتی۔

وہ کھجور کے تنے کے قریب کھڑی تھی۔

پاؤں تھکے ہوئے، جسم کمزور، مگر دل… دل جیسے کسی بڑے امتحان کے دہانے پر کھڑا ہو۔ پیشانی پر درد کے آثار، اور آنکھوں میں وہ کیفیت جسے صرف رب ہی جانتا ہے۔

میں نے ہاتھوں سے چھجا بنا کر اسے غور سے دیکھا، جیسے اس کے چہرے کے پیچھے چھپے درد کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ مگر درد سمجھ سے آگے کی چیز تھا۔ وہ محسوس کرنے کی چیز تھی۔

جنگل سانس روک چکا تھا۔

پھر اچانک فضا لرز اٹھی…

ایک آواز جو خاموشی کو چیرتی ہوئی آئی۔

“يَـٰلَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هَـٰذَا وَكُنتُ نَسْيًا مَّنسِيًّا…”

جیسے پہاڑوں نے بھی یہ سنا ہو، جیسے پرندے بھی چونک گئے ہوں۔ ہوا ٹھہر گئی، اور درختوں کے پتے تک کانپ اٹھے۔

یہ الفاظ نہیں تھے…

یہ دل کے ٹوٹنے کی آواز تھی۔

میں نے محسوس کیا کہ جنگل اب صرف جنگل نہیں رہا۔ یہ ایک ایسا آئینہ بن گیا تھا جس میں ہر وہ انسان نظر آ رہا تھا جو کسی نہ کسی درد کے لمحے میں خود سے بھاگنا چاہتا ہے۔ ہر وہ عورت، ہر وہ لڑکی، ہر وہ دل جو کسی ایسے موڑ پر آ کر خاموشی سے ٹوٹ جاتا ہے جہاں زبان کچھ نہیں کہہ سکتی۔

وہ الفاظ میرے اندر اتر گئے۔

اور اچانک میں نے محسوس کیا کہ یہ درد صرف ایک لمحے کا نہیں تھا۔ یہ ہر دور کی عورت کا درد تھا—ماں بننے کا، آزمائش کا، تنہائی کا، اور اس کیفیت کا جس میں انسان صرف اپنے رب سے بات کرنا چاہتا ہے مگر الفاظ ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔

میں نے آنکھیں بند رکھیں۔

کیونکہ اگر کھول دیتی تو شاید آنسو صرف آنکھوں میں نہ رہتے، پورے وجود کو بہا لے جاتے۔

جنگل اب بھی خاموش تھا، مگر اس خاموشی میں ایک عجیب سا سکون تھا۔ جیسے درد بھی کسی اعلیٰ حکمت کا حصہ ہو، جیسے تکلیف بھی کسی بڑے فیصلے کی پہلی سیڑھی ہو۔

پھر ایک خیال آیا…

یہ الفاظ صرف درد نہیں تھے۔

یہ صبر کی پہلی سانس بھی تھے۔

یہ وہ لمحہ تھا جہاں انسان ٹوٹ کر بھی ختم نہیں ہوتا، بلکہ کسی اور شکل میں سنورنے لگتا ہے۔

میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ آزمائش صرف بوجھ نہیں ہوتی، وہ ایک دروازہ بھی ہوتی ہے—ایسا دروازہ جو انسان کو اپنے رب کے قریب لے جاتا ہے۔

جنگل کی فضا بدلنے لگی۔

اداسی کے ساتھ ایک نرمی اترنے لگی۔ جیسے درد کے بعد کوئی ہلکی سی روشنی اندر آتی ہے۔

اور میں نے سمجھا…

یہ کہانی کسی ایک ہستی کی نہیں تھی۔

یہ ہر اس دل کی کہانی تھی جو خاموشی میں ٹوٹ کر بھی اپنے رب کی طرف جھک جاتا ہے۔

آنکھیں کھلیں تو باہر کی دنیا وہی تھی…

مگر اندر کا جنگل بدل چکا تھا۔

اب وہاں درد نہیں تھا۔

اب وہاں صرف سمجھ تھی…

اور ایک ایسی خاموش دعا جو الفاظ سے زیادہ گہری تھی۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سورہ فاتحہ تفسیر ابن کثیر کی روشنی میں

معوذتین

عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور تدوینِ فقہ کے مختلف مراحل