دل کے صحن میں روشنی کے بیج
دل کے صحن میں روشنی کے بیج
وہ آنکھیں جو رو نہیں سکتیں، آہستہ آہستہ ویران ہو جاتی ہیں۔
یہ بات اس نے بہت دیر سے سیکھی تھی۔
شہر کے ایک خاموش محلے میں، پرانے درختوں کے سائے تلے، زینب کا گھر تھا۔ گھر نہیں، ایک ٹھہرا ہوا لمحہ۔ دیواروں پر نمی کے نشان تھے، جیسے وقت نے بھی یہاں آ کر سانس روک لی ہو۔ زینب کی آنکھیں خشک تھیں، مگر دل… دل میں ایک عجیب سی وحشت بسی رہتی تھی، جیسے کسی خالی کمرے میں اندھیرا بولنے لگے۔
وہ وضو کرتی تھی۔ روز۔
پانی چہرے کو چھوتا، ہاتھوں سے بہتا، مگر اندر کہیں کچھ نہ دھلتا۔
وہ جانتی تھی کہ مسئلہ پانی کا نہیں، نیت کا ہے۔
سمجھنے کے لیے اندر کی صفائی ضروری تھی۔
ایک دن اس نے اپنی ماں کی پرانی ڈائری کھولی۔ پیلے اوراق، کمزور تحریر، مگر لفظوں میں عجیب سی تازگی۔
ایک جگہ لکھا تھا:
“دل اگر دل والے سے خالی ہو جائے تو اس میں کچھ اور آ بسـتا ہے۔ پھر وہ کچھ انسان نہیں رہنے دیتا۔”
زینب نے ڈائری بند کر دی۔
اسے یوں لگا جیسے کسی نے اس کے دل کے دروازے پر دستک دی ہو۔
اسی رات خواب میں اس نے ایک صحن دیکھا۔ بڑا، روشن، مگر خالی۔
صحن کے بیچوں بیچ ایک کاسہ رکھا تھا۔
کوئی آواز آئی:
“جتنا بڑا کاسہ ہوگا، اتنی خیرات ملے گی۔”
وہ چونک کر جاگ اٹھی۔
دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔
کیا اس کا دل اتنا بڑا تھا کہ خیر سما سکے؟
اگلے دن وہ دریا کے کنارے جا بیٹھی۔ پانی بہہ رہا تھا، جیسے کسی عہد پر قائم ہو۔ اسے یاد آیا کہ اس کا عرش پانی پر تھا… اور آج بھی ہے۔
اس نے پہلی بار آنکھیں بند کر کے رو دیا۔
خاموشی سے، بغیر آواز کے۔
آنسوؤں نے آنکھوں کو گیلا کیا، اور دل میں کچھ نرم سا ٹوٹ گیا۔
اسی لمحے اس نے محسوس کیا کہ وحشت پیچھے ہٹ رہی ہے۔
دن گزرتے گئے۔
زینب اب وضو کرتے وقت رک جاتی۔
پانی کو صرف چھونے نہیں دیتی، اسے سمجھنے دیتی۔
وہ اپنے دل کے صحن میں بیٹھ کر سوچتی:
میں نے یہاں کیا بویا ہے؟
محبت کے بیج یا خوف کے؟
ایک شام، جب سورج ڈوب رہا تھا، اسے ایک اجنبی ملا۔
نہ وہ صوفی تھا، نہ عالم۔
بس ایک عام سا آدمی، جس کی آنکھوں میں غیر معمولی سکون تھا۔
اس نے کہا:
“مدہوشی آسان نہیں ہوتی۔ اس سے مل کر بھی نارمل زندگی گزارنا پڑتی ہے۔
لوگ سمجھتے نہیں… دیوانے لوگ۔”
زینب مسکرا دی۔
یہ پہلی مسکراہٹ تھی جو دل تک پہنچی۔
اسے سمجھ آ گیا تھا:
نظارہ کرنا اور پھر زندہ رہنا واقعی مشکل ہوتا ہے،
مگر ناممکن نہیں۔
اس رات اس نے خواب میں پھر وہی صحن دیکھا۔
اب خالی نہیں تھا۔
چھوٹے چھوٹے سبز پودے اگ آئے تھے۔
روشنی کے بیج پھوٹ چکے تھے۔
وہ جاگ اٹھی، مگر دل اب جاگا ہوا تھا۔
وحشت رخصت ہو چکی تھی۔
دل والے نے صحن خالی نہیں رہنے دیا تھا۔
اور زینب نے جان لیا:
آنکھوں کو گیلا اور دل کو زندہ رکھنا ہی اصل عبادت ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں