تقدیر کے فیصلوں کی رات: ایک علمی و تحقیقی تجزیہ
تقدیر کے فیصلوں کی رات: ایک علمی و تحقیقی تجزیہ
عوامی حلقوں میں یہ بات بہت مشہور ہے کہ تقدیر کے فیصلے 15 شعبان یعنی شبِ برات کو ہوتے ہیں، لیکن جب ہم قرآنِ مجید کی آیات کا گہرائی سے مطالعہ کرتے ہیں، تو حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ قرآن کی نصِ قطعی یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ تمام فیصلے درحقیقت لیلۃ القدر (شبِ قدر) میں ہوتے ہیں۔
قرآن کی روشنی میں دلائل
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے تقدیر کے فیصلوں اور اپنے احکامات کے نزول کو واضح طور پر بیان فرمایا ہے:
* سورۃ القدر کی گواہی: "تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ"
(اس میں فرشتے اور روح (جبریل) ہر امر کے ساتھ نازل ہوتے ہیں، اپنے رب کے حکم سے۔)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ کائنات کے انتظامی معاملات اور فیصلے اسی رات فرشتوں کے حوالے کیے جاتے ہیں۔
* سورۃ الدخان کی صراحت:
"إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ... فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ"
(ہم نے اسے ایک بابرکت رات میں اتارا... اسی رات میں ہر حکمت والا معاملہ طے کیا جاتا ہے۔)
چونکہ قرآن رمضان میں نازل ہوا (البقرہ: 185)، اس لیے یہ "مبارک رات" بھی رمضان کی شبِ قدر ہی ہے۔
کیا شبِ برات میں فیصلے ہوتے ہیں؟ (ریسرچ رپورٹ)
اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ پھر شبِ برات کے بارے میں یہ تصور کہاں سے آیا؟ اس پر تحقیق درج ذیل ہے:
* روایات کی حیثیت: وہ تمام روایات جن میں ذکر ہے کہ 15 شعبان کو رزق، موت اور زندگی کے فیصلے ہوتے ہیں، وہ سند کے اعتبار سے انتہائی ضعیف یا منقطع ہیں۔ محدثین کے نزدیک ایسی روایات کو قرآن کی واضح آیات کے مقابلے میں پیش نہیں کیا جا سکتا۔
* عالمی تناظر: دنیا بھر کے مسلم ممالک، خاص طور پر عرب دنیا میں، اس رات کو "فیصلوں کی رات" کے طور پر نہیں منایا جاتا۔ یہ تصور زیادہ تر برصغیر اور مخصوص خطوں میں رائج ہے، جس کی بنیاد مستند دلائل پر نہیں بلکہ سنی سنائی باتوں پر ہے۔
* بدعت کا پہلو: دین میں کسی ایسی بات کو عقیدے کا حصہ بنا لینا جس کا ثبوت قرآن اور صحیح حدیث سے نہ ملے، بدعت کے زمرے میں آتا ہے۔
حتمی نتیجہ
تحقیق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ:
* تقدیر کے فیصلے شبِ قدر ہی میں ہوتے ہیں جو کہ رمضان کے آخری عشرے کی راتوں میں سے ایک ہے۔
* شبِ برات (15 شعبان) کے بارے میں تقدیر کے فیصلوں والی باتیں من گھڑت یا انتہائی ضعیف قصے ہیں۔
* ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ریسرچ کرے، اپنا دماغ کھولے اور صحیح و غلط کے درمیان فرق کو سمجھے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو سمجھنے اور قرآن و سنت کی خالص پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
کیا آپ چاہیں گی کہ میں اس مضمون کے لیے کچھ ایسی سرخیاں (Titles) تجویز کروں جو سوشل میڈیا پر لوگوں کی توجہ حاصل کر سکیں؟

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں