افسانہ: جب روشنی ملی تو وہ چلی


افسانہ: جب روشنی ملی تو وہ چلی

افسانہ: جب روشنی ملی تو وہ چلی

وہ اندھیرے میں کھڑی تھی۔
یہ اندھیرا رات کا نہیں تھا، یہ وہ اندھیرا تھا جو سوالوں سے بنتا ہے۔ ایسا اندھیرا جس میں آنکھیں کھلی ہوں مگر راستے دھندلے ہو جائیں۔

اچانک ایک چمک سی ہوئی۔
اتنی تیز نہیں کہ سب کچھ واضح ہو جائے، بس اتنی کہ قدم کا اندازہ ہو جائے۔

وہ رک گئی۔
دل نے کہا: چل
خوف نے کہا: ٹھہر

پھر اسے یاد آیا—
جب روشنی ملے تو چلنا، اور جب اندھیرا آئے تو رک جانا۔

وہ آگے بڑھی۔ صرف ایک قدم۔
پورا سفر نہیں، صرف ایک قدم۔
کیونکہ بجلی کی روشنی کبھی پورا منظر نہیں دکھاتی، صرف اگلا قدم دکھاتی ہے۔

وہ جانتی تھی یہ روشنی اس کی نہیں،
یہ وہ روشنی تھی جو کسی اور نے اس کے لیے پیدا کی تھی۔

ہوا نے اس کے چہرے کو چھوا۔
نظر نہ آنے والی، مگر زندگی دینے والی۔
وہ مسکرائی۔
ضروری چیزیں ہمیشہ دکھائی نہیں دیتیں۔

اسے درخت یاد آئے—
جنہیں انسان نے کاٹ کر یہ گمان کیا تھا کہ وہ طاقتور ہو گیا ہے،
اور درختوں نے خاموشی سے اس کی سانسیں بچا لیں۔

ایک لمحے کو اندھیرا پھر چھا گیا۔
وہ رک گئی۔
اس بار خوف سے نہیں، سمجھ سے۔

یہ رکنا پیچھے ہٹنا نہیں تھا،
یہ خود کو سنبھالنا تھا۔

اسے یاد آیا کہ مٹی بولتی نہیں،
مگر انسان مٹی ہو کر بھی بولنے لگا ہے۔
سوال کرتا ہے، اعتراض کرتا ہے،
اور پھر تنہا ہونے کا شکوہ بھی کرتا ہے۔

ایک اور چمک۔
کمزور سی، مختصر سی۔
مگر کافی۔

وہ پھر چل پڑی۔

اسے سمجھ آ گیا تھا کہ
قرآن مستقل روشنی نہیں،
یہ مسلسل بجلی ہے—
جو صرف انہیں راستہ دکھاتی ہے
جو چلنا چاہتے ہیں۔

جو بیٹھے رہنا چاہیں،
ان کے لیے یہ روشنی بے معنی ہے۔

وہ جان گئی تھی:
اللہ اندھیرے میں چھوڑ کر نہیں جاتا،
وہ صرف یہ دیکھتا ہے
کہ روشنی ملنے پر کون قدم اٹھاتا ہے۔

اب وہ چل رہی تھی—
ہر چمک پر ایک قدم،
ہر اندھیرے میں ایک توقف۔

مگر راستہ نہیں چھوڑا۔

کیونکہ اسے یقین ہو چکا تھا
کہ یہ سفر رکنے سے نہیں،
انکار سے ختم ہوتا ہے۔

اور وہ انکار کے اندھیرے سے
ہدایت کی بجلی تک آ چکی تھی۔

جاری ہے…


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور تدوینِ فقہ کے مختلف مراحل

نصرانیت/عیسائیت/christanity

مذہب کا انسانی زندگی میں کردار