اشاعتیں

2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

تقدیر کے فیصلوں کی رات: ایک علمی و تحقیقی تجزیہ

تصویر
    تقدیر کے فیصلوں کی رات: ایک علمی و تحقیقی تجزیہ عوامی حلقوں میں یہ بات بہت مشہور ہے کہ تقدیر کے فیصلے 15 شعبان یعنی شبِ برات کو ہوتے ہیں، لیکن جب ہم قرآنِ مجید کی آیات کا گہرائی سے مطالعہ کرتے ہیں، تو حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ قرآن کی نصِ قطعی یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ تمام فیصلے درحقیقت لیلۃ القدر (شبِ قدر) میں ہوتے ہیں۔ قرآن کی روشنی میں دلائل قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے تقدیر کے فیصلوں اور اپنے احکامات کے نزول کو واضح طور پر بیان فرمایا ہے:  * سورۃ القدر کی گواہی: "تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ"    (اس میں فرشتے اور روح (جبریل) ہر امر کے ساتھ نازل ہوتے ہیں، اپنے رب کے حکم سے۔)    یہ آیت واضح کرتی ہے کہ کائنات کے انتظامی معاملات اور فیصلے اسی رات فرشتوں کے حوالے کیے جاتے ہیں۔  * سورۃ الدخان کی صراحت:    "إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ... فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ"    (ہم نے اسے ایک بابرکت رات میں اتارا... اسی رات میں ہر حکمت والا معاملہ طے کیا ج...

دل کا قبلہ افسانہ

تصویر
   افسانہ دل کا قبلہ جب احمد کی دکان پر پہلی بار روشنی لگی تو گلی والوں نے صرف ایک بات نوٹ کی— وہ مسکرا رہا تھا۔ یہ مسکراہٹ عام سی تھی، نہ شور، نہ اعلان۔ بس جیسے کسی نے دل کے اندر چراغ جلا لیا ہو اور روشنی آنکھوں تک آ گئی ہو۔ اسی گلی میں سلیم بھی رہتا تھا۔ سلیم کی آنکھوں نے روشنی دیکھی تو دل نے اندھیرا محسوس کیا۔ “اچھا… کاروبار چل نکلا؟” سلیم نے کہا، مگر لہجے میں دعا نہیں تھی، حساب تھا۔ احمد نے سر جھکا کر کہا: “اللہ کا کرم ہے۔” یہ جملہ سلیم کو ہمیشہ کھٹکتا تھا۔ کیونکہ سلیم نے زندگی کو کبھی “کرم” کے زاویے سے نہیں دیکھا تھا، وہ ہمیشہ بندوبست کے زاویے سے دیکھتا تھا۔ وقت گزرا۔ ایک دن احمد کی دکان پر آگ لگ گئی۔ شعلے خاموش نہیں تھے، مگر احمد خاموش تھا۔ وہ راکھ میں کھڑا تھا، آنکھوں میں آنسو تھے، مگر دل میں شور نہیں تھا۔ اسی شام سلیم گلی میں لوگوں کو بتا رہا تھا: “میں نے تو پہلے ہی سوچ رکھا تھا، اسی لیے میں نے رسک نہیں لیا۔ دیکھا؟ عقل مند وہی ہوتا ہے جو پہلے بندوبست کر لے۔” کہتے ہوئے اس کے ہونٹ مسکرا رہے تھے۔ یہ وہ مسکراہٹ تھی جو کسی کی کامیابی سے نہیں، کسی کے جلنے سے پیدا ہ...

رمضان 2026 کی تیاریاں: روحانی، جسمانی اور انتظامی رہنمائی

تصویر
  رمضان 2026 کی تیاریاں: روحانی، جسمانی اور انتظامی رہنمائی فروری 2026 کا مہینہ اپنے ساتھ رحمتوں اور برکتوں کا وہ عظیم الشان موسم لے کر آ رہا ہے جس کا ہر مسلمان کو شدت سے انتظار ہوتا ہے۔ رمضان المبارک 2026 محض ایک مہینہ نہیں بلکہ یہ اپنی روح کو پاک کرنے، گناہوں سے توبہ کرنے اور اللہ تعالیٰ سے ٹوٹا ہوا تعلق دوبارہ جوڑنے کا ایک سنہری موقع ہے۔ خاص طور پر امریکہ، یورپ اور پاکستان میں مصروف طرزِ زندگی گزارنے والے مسلمانوں کے لیے رمضان کی پیشگی تیاری (Pre-Ramadan Planning) انتہائی ضروری ہے تاکہ اس مبارک مہینے کا ایک لمحہ بھی ضائع نہ ہو۔ 1. روحانی تیاری: دل کی زمین کو ہموار کریں رمضان کی تیاری کا اصل مقصد اپنے دل کو اللہ کی عبادت کے لیے تیار کرنا ہے۔ اگر ہم شعبان کے مہینے سے ہی اپنی تربیت شروع نہیں کریں گے، تو رمضان کے ابتدائی دن صرف جسمانی تھکن اور بھوک پیاس کی نذر ہو جائیں گے۔  * توبہ اور استغفار: اپنے پچھلے گناہوں پر ندامت کے ساتھ اللہ سے معافی مانگیں تاکہ رمضان کا آغاز ایک پاکیزہ روح کے ساتھ ہو۔  * نیت کی درستی: یہ عزم کریں کہ یہ رمضان آپ کی زندگی کا سب سے بہترین رمضان ہوگا۔...

دل کے صحن میں روشنی کے بیج

تصویر
دل کے صحن میں روشنی کے بیج وہ آنکھیں جو رو نہیں سکتیں، آہستہ آہستہ ویران ہو جاتی ہیں۔ یہ بات اس نے بہت دیر سے سیکھی تھی۔ شہر کے ایک خاموش محلے میں، پرانے درختوں کے سائے تلے، زینب کا گھر تھا۔ گھر نہیں، ایک ٹھہرا ہوا لمحہ۔ دیواروں پر نمی کے نشان تھے، جیسے وقت نے بھی یہاں آ کر سانس روک لی ہو۔ زینب کی آنکھیں خشک تھیں، مگر دل… دل میں ایک عجیب سی وحشت بسی رہتی تھی، جیسے کسی خالی کمرے میں اندھیرا بولنے لگے۔ وہ وضو کرتی تھی۔ روز۔ پانی چہرے کو چھوتا، ہاتھوں سے بہتا، مگر اندر کہیں کچھ نہ دھلتا۔ وہ جانتی تھی کہ مسئلہ پانی کا نہیں، نیت کا ہے۔ سمجھنے کے لیے اندر کی صفائی ضروری تھی۔ ایک دن اس نے اپنی ماں کی پرانی ڈائری کھولی۔ پیلے اوراق، کمزور تحریر، مگر لفظوں میں عجیب سی تازگی۔ ایک جگہ لکھا تھا: “دل اگر دل والے سے خالی ہو جائے تو اس میں کچھ اور آ بسـتا ہے۔ پھر وہ کچھ انسان نہیں رہنے دیتا۔” زینب نے ڈائری بند کر دی۔ اسے یوں لگا جیسے کسی نے اس کے دل کے دروازے پر دستک دی ہو۔ اسی رات خواب میں اس نے ایک صحن دیکھا۔ بڑا، روشن، مگر خالی۔ صحن کے بیچوں بیچ ایک کاسہ رکھا تھا۔ کوئی آواز آئی: “...

قرآن، تجوید اور برکات

تصویر
  قرآن، تجوید اور برکات قرآن کریم اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا کلام ہے، جس کی تلاوت باعثِ اجر و ثواب اور باعثِ برکت ہے۔ لیکن اس کلامِ الٰہی سے مکمل فیض حاصل کرنے کے لیے اسے اسی طرح پڑھنا ضروری ہے جیسے یہ نازل ہوا۔ تجوید محض حروف کی درست ادائیگی کا نام نہیں، بلکہ یہ تلاوت میں وہ روح پھونکتی ہے جس سے قاری کی زندگی میں برکتوں کا نزول ہوتا ہے۔ علمائے امت اور کتبِ سلف کے اقتباسات فنِ تجوید کی اہمیت پر ائمہ دین نے بہت زور دیا ہے۔ ذیل میں چند معتبر کتب سے اقتباسات پیش خدمت ہیں:  * امام ابن الجزری (کتاب النشر): آپ فرماتے ہیں کہ "امتِ مسلمہ جس طرح قرآن کے معانی کی حفاظت کی مکلف ہے، اسی طرح اس کے الفاظ اور حروف کی تجوید کی حفاظت کی بھی مکلف ہے تاکہ یہ اسی طرح باقی رہے جیسے نازل ہوا تھا۔"  * ملا علی قاری (شرح الجزریہ): آپ کے نزدیک تجوید کا علم اس لیے ضروری ہے کہ اس کے بغیر تلاوت میں "لحنِ جلی" (بڑی غلطی) کا اندیشہ ہوتا ہے، جس سے بسا اوقات معنی بدل جاتے ہیں اور نماز فاسد ہو سکتی ہے۔  * امام غزالی (احیاء العلوم): آپ فرماتے ہیں کہ "قرآن کا حق یہ ہے کہ اسے ترتیل (تجوید) کے ساتھ پڑ...

قرآن کے ساتھ میرا سفر — 3

تصویر
  قرآن کے ساتھ میرا سفر —  3 جب حق آتا ہے وہ آیت پڑھ کر دیر تک خاموش بیٹھی رہی۔ خاموشی ایسی تھی جیسے شور تھک کر بیٹھ گیا ہو۔ حَتَّىٰ جَاءَ الْحَقُّ وَظَهَرَ أَمْرُ اللَّهِ حق آ جاتا ہے… یہ جملہ کوئی اعلان نہیں تھا، یہ ایک قانون تھا۔ اس نے محسوس کیا کہ فتنہ ہمیشہ شور مچاتا ہے۔ وہ سوالوں کو الجھاتا ہے، باتوں کو موڑتا ہے، نیتوں پر گرد ڈالتا ہے۔ فتنہ چیختا ہے تاکہ سچ سنائی نہ دے۔ اور حق؟ حق کبھی چیختا نہیں۔ وہ آہستہ چلتا ہے، خاموشی سے جگہ بناتا ہے، اور پھر… کھڑا ہو جاتا ہے۔ اسے یاد آیا کہ زندگی میں کتنی بار اس نے شور کو طاقت سمجھ لیا تھا۔ کتنی بار کنفیوژن کو ذہانت کا نام دیا تھا۔ اور کتنی بار سچ اپنی سادگی کے باعث نظرانداز ہو گیا تھا۔ وہ سوچنے لگی— جو دل سے حق کے دشمن ہوں وہ دلیل سے نہیں ڈرتے، وہ وضاحت سے ڈرتے ہیں۔ اسی لیے وہ بات کو گھماتے ہیں، لفظوں کو بگاڑتے ہیں، اور فضا میں ایسا دھواں بھر دیتے ہیں کہ اصل چیز دکھائی ہی نہ دے۔ مگر دھواں ہمیشہ ہوا کے سامنے ہار جاتا ہے۔ حق کی سب سے بڑی طاقت یہی ہے کہ وہ کسی کو قائل کرنے نہیں آتا، وہ صرف ظاہر ہ...

قرآن کے ساتھ میرا سفر 2

تصویر
  قرآن کے ساتھ میرا سفر  ہدایت کے کنارے کھڑا انسان وہ سمجھ رہی تھی کہ یقین ایک منزل ہے۔ مگر آیت نمبر پانچ نے آ کر بتایا کہ یقین تو صرف دروازہ ہے۔ أُولَٰئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں، اور یہی لوگ کامیاب ہیں۔ وہ دیر تک اس آیت کو دیکھتی رہی۔ ہدایت پر ہونا— یہ کوئی دعویٰ نہیں، یہ کوئی نعرہ نہیں، یہ کوئی لباس یا پہچان نہیں۔ یہ ایک کھڑا ہونا ہے۔ وہ سوچنے لگی ہم اکثر کہتے ہیں “ہمیں ہدایت مل گئی ہے” مگر قرآن کہتا ہے کہ ہدایت ملتی نہیں، ہدایت پر کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ اور کھڑا ہونا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ ہدایت ایک سیدھی لکیر نہیں، یہ ایک باریک راستہ ہے جہاں ذرا سا جھکاؤ انسان کو کنارے سے نیچے گرا دیتا ہے۔ وہ جان گئی کہ ہدایت کوئی محفوظ قلعہ نہیں جہاں پہنچ کر دروازہ بند ہو جائے۔ یہ تو ہر لمحہ اپنے آپ کو سنبھالنے کا نام ہے۔ اور پھر فلاح… فلاح کا مطلب صرف کامیابی نہیں۔ یہ اندر کی نجات ہے، وہ سکون جو ہجوم میں بھی میسر آ جائے، وہ روشنی جو اندھیرے میں بھی ساتھ چلتی رہے...

قرآن کے ساتھ میرا سفر 1

تصویر
  بسم اللہ جو نظر نہیں آتی، مگر زندگی بدل دیتی ہے) وہ آیت نمبر چار پر آ کر ٹھہر گئی تھی۔ کتاب کھلی تھی، مگر اب یہ آنکھوں کی کتاب نہ رہی تھی۔ یہ دل کی بات تھی، نیت کی، یقین کی۔ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ یقین— وہ شے جو دکھائی نہیں دیتی مگر انسان کی سمت بدل دیتی ہے۔ وہ سوچنے لگی۔ قدرت جب کسی شے کو اپنے وجود کے لیے نقصان دہ سمجھتی ہے تو اسے خود سے الگ کر دیتی ہے۔ درخت سوکھا پتّا گرا دیتا ہے، جسم زہر کو پسینے میں بہا دیتا ہے، دریا بوجھ بن جانے والی گندگی کنارے چھوڑ آتا ہے۔ اور انسان؟ انسان کو اختیار دیا گیا ہے۔ وہ چاہے تو زہر کو بھی گلے لگا لے، اور چاہے تو شفا کو بھی رد کر دے۔ اسی اختیار کے سبب پیغمبر بھیجے گئے، کتابیں نازل ہوئیں، اور نشانیاں دکھائی گئیں— تاکہ انسان خود پہچان سکے کہ اس کے لیے کیا نور ہے اور کیا ہلاکت۔ اسے امام ابو حامد الغزالیؒ یاد آ گئے۔ وہ کہتے ہیں کہ جس دل میں مخلوق کے لیے رحمت نہ ہو وہ معرفتِ الٰہی کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ کیونکہ جو دل درد کو نہیں پہچانتا وہ ربّ کی پہچان سے بھی دور رہتا ہے۔ وہ سمجھ گئی— ولایت کسی بلندی کا نام نہیں،...

ہدایت کا سفر: سورہ البقرہ کے آئینے م

تصویر
  ہدایت کا سفر: سورہ البقرہ کے آئینے میں رات کا آخری پہر تھا، جب آسمان سے اترتی ٹھنڈک روح کو چھو رہی تھی۔ اس نے کتابِ مبین کھولی تو پہلی ہی صدا نے اسے چونکا دیا: "ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ ۖ فِيْهِ ۛ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ" "یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، ہدایت ہے ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ رکھتے ہیں۔" اسے محسوس ہوا جیسے یہ لفظ 'شک' اس کے اپنے اندر کی بے چینی کا عکس تھا۔ ہم کتنی بار زندگی کے فیصلوں، اپنی قسمت اور رب کی حکمت پر شک کی دھند میں گھر جاتے ہیں۔ مگر اس کتاب نے پہلے ہی قدم پر کہہ دیا کہ اگر ہدایت چاہیے تو پہلے شک کے بت توڑنے ہوں گے۔ وہ آگے بڑھی تو اسے بنی اسرائیل کا قصہ ملا۔ ایک قوم جسے اللہ نے سب پر فضیلت دی، مگر انہوں نے ناشکری اور حیلے بہانوں کو اپنا شعار بنایا۔ اس نے آئینہ اپنی طرف گھمایا۔ "کیا میں بھی تو وہی نہیں کر رہی؟" اس نے سوچا۔ "رب کہتا ہے کہ نماز قائم کرو، اور میں وقت کی تنگی کا بہانہ بناتی ہوں۔ رب کہتا ہے کہ سود سے بچو، اور میں اسے 'جدید معیشت کی ضرورت' کہتی ہوں۔ رب کہتا ہے کہ مجھ پر بھروسہ کرو، اور میں بینک ب...

سورہ عصر کے آ ئینے میں

تصویر
  سورہ عصر کے آ ئینے میں ۔۔۔۔۔۔ سورج ڈھل رہا تھا، آسمان پر نارنجی اور سرخ رنگوں کی آمیزش گواہی دے رہی تھی کہ ایک اور دن رخصت ہونے کو ہے۔ وہ کھڑکی کے پاس بیٹھی اپنی ڈائری میں کچھ حساب لکھ رہی تھی— وقت کا حساب، کاموں کا حساب، ادھورے منصوبوں کا بوجھ۔ اچانک مسجد سے عصر کی اذان گونجی۔ اس نے قلم رکھ دیا اور وضو کے لیے اٹھ گئی۔ جائے نماز پر کھڑی ہوئی تو وہی بھاگ دوڑ، وہی کل کی فکر اور گزرے ہوئے لمحات کا افسوس اس کے ساتھ ساتھ تھا۔ والعصر اس نے تکبیر کہی اور پہلا لفظ زبان سے ادا ہوا۔ "زمانے کی قسم..." اسے محسوس ہوا جیسے کائنات کی گھڑی ایک پل کے لیے رک گئی ہو۔ زمانہ، جو ریت کی طرح ہاتھوں سے پھسل رہا ہے۔ اسے اپنے بچپن، جوانی اور پھر ان گنت گزرے ہوئے گھنٹوں کا خیال آیا۔ "یا اللہ، میں نے اس وقت کے ساتھ کیا کیا؟ کیا میں نے اسے جی لیا، یا صرف کاٹ دیا؟" إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ یہ آیت اس کے دل پر ایک دستک کی طرح لگی۔ "بے شک انسان خسارے میں ہے۔" اس نے سوچا، ہم تو کامیابی اسے سمجھتے ہیں جو بینک بیلنس، بڑے گھر اور عہدوں کی صورت میں نظر آئے۔ لیکن رب کہہ رہا ہے کہ ہم سب ...

میرا خواب ترکی

تصویر
  میرا   خواب ترکی  کچھ منزلیں ایسی ہوتی ہیں جہاں قدم رکھنے سے پہلے ہی انسان کا دل وہاں ڈیرہ ڈال لیتا ہے۔ میرے لیے وہ منزل ترکی (Turkey) ہے۔ کبھی کبھی میں آنکھیں بند کرتی ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں استنبول (Istanbul) کی کسی قدیم، پتھریلی گلی میں چل رہی ہوں۔ ہوا میں سمندر کی نمکینی اور تازہ قہوے کی مہک ہے، اور سامنے سے نیلی مسجد کے بلند و بالا مینار مجھے پکار رہے ہیں۔ میں نے اس شہر کو دیکھا نہیں، مگر میں اسے پہچانتی ہوں—بالکل کسی بچھڑے ہوئے ہم سفر کی طرح۔ بچپن کی وہ ایک بات اور امی کا تذکرہ میری اس دیوانگی کی بنیاد بچپن میں ہی پڑ گئی تھی جب میں نے اپنی امی سے سنا تھا کہ "آخری جنگ ترکی (Turkey) سے شروع ہوگی۔" اس وقت میرا ننھا سا ذہن ان باتوں کی گہرائی تو نہیں جانتا تھا، مگر میری تصوراتی دنیا میں ترکی (Turkey) ایک بہت ہی طاقتور اور ہیبت ناک چیز بن کر ابھرا۔ ایک ایسی جگہ جہاں سے دنیا کی تاریخ کا رخ مڑنا تھا۔ ناول کی دنیا سے حقیقت کے رنگوں تک وقت گزرنے کے ساتھ شعور آیا تو پتا چلا کہ یہ ملک تو ہماری محبتوں کا مرکز ہے۔ ابھی میں اس ملک کے سحر کو سمجھنے کی کوشش ہی کر رہ...

افسانہ مشن کا مرکز

تصویر
مشن کا مرکز رات کے تین بج رہے تھے، مگر کمرے میں موجود ایپل آئی فون 18 پرو (Apple iPhone 18 Pro) کی سکرین سے نکلتی نیلی روشنی نے اندھیرے کو شکست دے رکھی تھی۔ اس کی ہولوگرافک ڈسپلے پر ناسا کے آرٹیمس 2 لانچ پیڈ (NASA Artemis II launch pad) کا براہِ راست منظر چل رہا تھا۔ راکٹ سے نکلتا دھواں اور برف کی پرتیں انسانی عزم کی گواہی دے رہی تھیں۔ حارث نے فون ہاتھ میں لیا، اس کے ٹائٹینیم فریم کی ٹھنڈک اسے عجیب سی بے چینی دے رہی تھی۔ وہ سوچ رہا تھا کہ انسان مٹی سے اٹھ کر چاند پر قدم رکھنے کے لیے تیار ہے، مگر اس کے اپنے گھر کی زمین اسے تنگ محسوس ہو رہی تھی۔ اچانک ایک نوٹیفکیشن چمکا۔ وراٹ کوہلی (Virat Kohli) نے اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد ایک نئی فاؤنڈیشن کا آغاز کیا تھا۔ سکرین پر کوہلی کا وہی پرانا عزم جھلک رہا تھا۔ حارث نے سوچا، "کامیابی صرف وہ نہیں جو لوگ دیکھ رہے ہیں، بلکہ وہ ہے جو انسان خود کو بہتر بنانے کے لیے کرتا ہے۔ کوہلی نے اپنے کریئر میں کئی بار گر کر سنبھلنا سیکھا، اور یہی زندگی کی اصل اصلاح ہے۔" اس نے فون کی سکرین آف کی تو کھڑکی کے باہر فجر کا ستارہ چمک رہا تھا۔ اسے یاد آیا کہ وہ گھن...

Namaz Journling Or NLP

تصویر
 Ebook پیش لفظ نماز: آنکھوں کی ٹھنڈک اور روح کا قرار یہ کتاب ایک ایسی تڑپ کا نتیجہ ہے جو مجھے اکثر بے چین رکھتی تھی—یہ تڑپ کہ ہم مسلمان ہونے کے ناطے نماز تو پڑھتے ہیں، مگر کیا وہ نماز واقعی ہماری زندگیوں کو بدل رہی ہے؟ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا تھا کہ "میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے" (سنن نسائی)۔ ہم نے اکثر یہ جملہ سنا، مگر کیا کبھی ٹھہر کر یہ سوچا کہ ایک جسمانی عبادت کسی انسان کے لیے 'بصری اور قلبی ٹھنڈک' کیسے بن سکتی ہے؟ آنکھوں کی ٹھنڈک تب حاصل ہوتی ہے جب نماز محض جسمانی حرکات کا مجموعہ نہ رہے بلکہ روح کا اپنے خالق سے مکالمہ بن جائے۔ جب ایک انسان دنیا کے تمام ہنگاموں، پریشانیوں اور فکروں کو مسجد کی دہلیز یا جائے نماز کے باہر چھوڑ کر اپنے رب کے سامنے "اللہ اکبر" کہتا ہے، تو کائنات کی ہر چیز اس کی نظر میں چھوٹی ہو جاتی ہے۔ نماز تب آنکھوں کی ٹھنڈک بنتی ہے جب: * ہم نماز کو "بوجھ" یا "ٹاسک" نہیں بلکہ خالق سے ایک ایسی "ملاقات" (Appointment) سمجھ کر پڑھیں جس کا ہم پورا دن انتظار کرتے ہیں۔ * ہر سجدے میں یہ احساس ہو کہ ہم کائن...