اشاعتیں

چائے کا کپ۔

تصویر
سو لفظوں کی کہانی۔۔۔ چائے کا کپ۔۔۔۔تحریر :روبینہ شاہین میں اور امی بازار گئیں۔۔۔واپس لوٹیں تو نانی اماں چائے پی رہیں تھیں۔۔۔ہمیں دیکھا تو کپ امی کو تھما دیا کہ پی لو امی نے کپ اٹھایا اور بے ساختہ مجھے دیکھا تو کپ میری طرف بڑھا دیا۔۔۔عجیب صورت حال تھی۔۔۔چائے کا کپ ایک اور مائیں دو۔۔۔۔امی مجھے دیتیں اور نانی اماں کا اصرار تھا کہ چائے امی پئیں۔۔۔دو مائیں اپنی اپنی مامتا نچھاور کرنے کو تلیں بیٹھیں تھیں۔۔۔۔میں پریشان کم اور حیران زیادہ تھیں۔۔۔۔بالآخر میری امی جیت گئیں اور چائے میرا مقدر بنیں میرے ہونٹوں سے قطرہ قطرہ رس کر رگوں میں   رس گھولنے لگیں۔۔۔ میری ڈائری سے انتخاب

دونان

تصویر
دونان تحریر:روبینہ شاہین سردیوں کے دن تھے۔۔۔۔میں نماز کے لیے اٹھی تو اماں پہلے سے اٹھ چکیں تھیں۔مجھے نماز سے فارغ ہوتے دیکھا تو پوچھا کہ ناشتہ کروں گی ؟میں نے اثبات میں سر ہلایا تو وہ کچن میں چل دیں۔۔۔۔جہاں گیس ندارد دیکھ کر وہ بازار سے ناشتہ لینے چلیں گئیں۔۔واپسی پہ دونان اور چنوں کا شاپر انکے ہاتھ میں تھا۔۔ایک نان انھوں نے مجھے دیا ۔۔۔اور دوسرا اپنے لئے ۔۔ابھی کھانے ہی لگیں تھی کہ بھائی بھی اٹھ بیٹھا۔۔۔اماں نے اپنا نان بھائی کو دے دیا۔۔۔میں ناشتے میں مگن تھی اچانک مجھے خیال آیا کہ نان تو دو ہی تھے پھر اماں کیا کھا رہیں ہیں ۔۔۔دیکھا تو رات کی روٹی انکی پلیٹ میں موجود انکے ماں ہونے کی گواہی دے رہی تھی۔۔۔میری آنکھوں سے بھل بھل آنسو بہنے لگے۔۔۔۔۔

بلیک ہول کی دریافت۔۔خالق کائنات کی قدرت مظہر

تصویر
تحریر :روبینہ شاہین بلیک ہول ( black hole )کیا ہے؟ بلیک ہول وہ دیو ہیکل  سیارہ ہے۔جو ملکی وے کہکشاں کے درمیان میں واقع ہے۔(جہاں تک ملکی وے کہکشاں کی بات ہے تو یہ وہ  کہکشاں ہے۔جس میں تین سو ارب سورج ہیں،اور ہمارا سورج ان میں سے ایک ہے۔جو سب سے چھوٹا ہے۔اور ایک سورج کے اندر اتنی روشنی ہے کہ  پچاس کروڑ ایٹم بم کی انرجی فی سیکنڈ کے حساب سے ان کے اندر سے خارج ہو رہی ہے۔اور اس طرح کی ڈھائی سو ارب کہکشائیں اس کائنات میں موجود ہیں۔اللہ اکبر) جو زمین کے مجموعی حجم سے  تیس لاکھ گنا بڑا ہے۔یہ سیارہ زمین سے پچاس کروڑ کھرب دوری پر واقع ہے۔سائنس دانوں کے مطابق یہ پورے نظام شمسی سے بڑا ہے۔یہ سورج سے حجم کے لحاظ سے چھ اشاریہ پانچ گنا  ارب زیادہ بڑا ہے۔بلیک ہول اس قدر طاقتور ہے کہ اس سے کوئی چیز نہیں گزر سکتی،اس کے دائرے سے نکلنے کے لیے روشنی کی رفتار سے بھی زیادہ رفتار درکار ہونی چاہیئے،چونکہ روشنی سے زیادہ تیز رفتار کوئی چیز نہیں لہذا جو چیز بھی اس کے اندر چلی جائے اس کا نکلنا ناممکن ہے۔الغرض بلیک ہول ایک یاسی جگہ ہے جہاں ستارے ٹوٹتے اور کہکشائیں غرق ہو جاتیں ہیں۔...

زینیا( خلا میں اگنے والا پہلا پھول)

تصویر
تحریر :روبینہ شاہین زندگی آہستہ آہستہ جنم لے رہی تھی،شوخ نارنجی کونپل نے جونہی انگڑائی لی زمین کا سینہ چاک ہوا۔۔۔۔وہ ایک نئی دنیا میں داخل ہو چکی تھی۔۔جہاں   چاروں طرف   خاموشی     اورسفید ی   کا راج تھا،زینیا بہت حیران ہوئی   اسے اپنے اردگرد کوئی بھی اپنے جیسا ہم نوا دکھائی نا دیا۔چاروں طرف بادلو ں کا جم غفیر تھا۔ابھی اسکی آنکھیں بھی پوری طرح سے نا کھل پائیں تھیں کہ دور سے ایک   لمبا تڑنگا شخص کمیر ہ لیے آیا اور تصویر بنائی،زینیا کی آنکھیں چندھیا گئیں،وہ کہاں عادی تھی ایسی روشنیوں کی،پھر اس نے سنا   وہ زیرلب بڑبڑا رہا تھا"خلا میں اگنے والا پہلا پھول"جسے زینیا کا نام دیا گیا۔ زمین ابھی تک سکتے میں تھی۔وہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر روز آسمان کو تکتی ۔۔۔جتنا تکتی   اتنا ہی حیراں ہوتی،نا جانے یہ کیسی مخلوق اس کے سینے پہ آن بسی تھی جو زمین کے پھول اجاڑ کر اسے بنجر بنا دینے پر بضد تھا اور دوسری طرف خلا میں شجرکاری۔۔۔اے انسان تجھے   صیا د کہوں یا زخم آشنا،محرم کہوں یا مجرم تو ہی بتا۔۔۔۔زمین کے آنسوانسان کی منافقانہ   روش پر نوحہ کناں تھ...

کتاب کا مطالعہ کیسے کریں؟

تصویر
ریڈنگ اور سیکھنے کے ذرائع: مکمل رہنمائی علم و سیکھنے کا عمل صرف کلاس روم تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے ہر لمحے میں جاری رہتا ہے۔ علم کے حصول میں ہمیں مختلف ماخذ (Sources of Knowledge) سے مدد ملتی ہے، جو نہ صرف ہمارے ذہن کو روشن کرتے ہیں بلکہ ہمارا ایمان و فکر بھی مضبوط بناتے ہیں ۔ قرآن کریم اور وحی الہٰی کے ذریعے سیکھنا اسلام میں علم کی اہمیت کا سب سے پہلا پیغام پہلی نازل ہونے والی آیت “اقرأ باسم ربك الذي خلق” سے آیا۔ ( hilm.edu.pk ) یہ ہمیں بتاتی ہے کہ علم حاصل کرنا فرض ہے ۔ قرآن کریم نہ صرف دینی علم بلکہ زندگی، کائنات، معاشرت اور سائنس کے بارے میں بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: قرآن و سنت کی روشنی میں باقی تمام معلومات کو پرکھنا اور موازنہ کرنا ضروری ہے۔ reading-learning-islamic-books-sources-of-knowledge استاد اور کلاس روم کی اہمیت برائے اسلامی تعلیم کلاس روم میں استاد ہمارا سب سے پہلا علم کا ذریعہ ہوتا ہے۔ استاد کی رہنمائی سے ہم: کتابوں کا صحیح مفہوم سمجھتے ہیں غلط فہمیوں کی تصحیح کرتے ہیں سوالات کے جوابات حاصل کرتے ہیں استاد نہ صرف علم سکھاتے ہیں بلکہ غور...

سورہ والضحیٰ۔۔۔۔۔مایوسی کے اندھیروں سے نکال باہر کرنے والی سورت

تصویر
تحریر:روبینہ شاہین ڈپریشن دنیا کی دوسری بڑی بیماری بننے جا رہی ہے۔ہر بندہ کسی نا کسی الجھن اور پریشانی میں جکڑا دکھائی دیتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ڈپریشن کو باقاعدہ ایک بیماری کے طور پر تسلیم کیا جا چکا ہے،1994 ء میں   یہ دنیا کی چوتھی بڑی بیماری تھی اور 1920 ء میں اس کا نمبر دوسرا ہوگا۔جبکہ پاکستان میں یہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔شہروں   میں 39 فیصد اور دیہاتوں میں اسکا تناسب ۔۔۔مجموعی آبادی کا 34فیصد اس کا شکار ہے۔اور ان میں زیادہ تر خواتین ہیں۔ مایوسی اور نا امیدی کینسر سے بھی زیادہ مہلک ہے۔یہ انسانی احساسات کو متاثر کرتی ہے۔انسان کو اپنی دنیا اجڑی اجڑی دکھائی دیتی ہے،زندگی سے خوشی ختم ہ کر رہ جاتی ہے۔ایسے میں کچھ لمحات کے لئے قرآن مجید کھولیے ،سوچیئے مالک کائنات آپ سے مخاطب ہے۔جو آپ کی شہ رگ سے بھی زیادہ آپ کے نزدیک ہے اسے محسوس کیجئے،سور ہ والضحیٰ کا سمجھ کر مطالعہ کیجئے۔۔۔ "نہ تیرے رب نے تجھے چھوڑا نہ ہی مایوس ہوا"اس آیت کو محسوس کیجئے۔۔۔۔آپ کا رب آپ سے مخاطب ہے۔جوں جوں پڑھتے جائیں گے،مایوسی کے بادل چھٹتے جائیں گے،مایوسیوں میں گھرا دل توانائی پاکر جھومنے لگ...

انٹرویو "روبینہ شاہین"کالم نگار ،ریسرچر اور افسانہ نگار

تصویر
سوال نمبر 1تعارف تعلیم کامیابیاں اور شوق وغیرہ روبینہ شاہین نام ہے میرا،زندہ دلان لاہور سے تعلق ہے ،اسلامک اسٹیڈیز میں ایم فل کیا،قرآن مجید ترجمہ تفسیر کورس کیا۔گراف ڈیزائنر بھی ہوں،سیکھنے سکھانے کا سلسلہ جاری ہے۔انشاء اللہ کتابوں کی بچپن سے رسیا تھی،گھر میں پنجابی ادب وافر مقدار میں موجود تھا سو سب سے پہلے انہی کا مطالعہ کیا۔ہیر وارث شاہ،یوسف زلیخا میں نے اوائل عمری میں ہی پڑھ ڈالیں تھیں۔انٹر کے بعد دینی تعلیم کا آ غاز ہوا،وہاں پہ موجود رائٹنگ سیل سے میری لکھنے کے جراثیم دریافت ہوئے۔تب اخبارات میں لکھنا شروع کیا۔جنگ،نوائے وقت کے اسلامی ایڈیشن میں میرے آرٹیکل چپھتے رہے،اس کے ساتھ ساتھ خواتین میگزین جو کہ لاہور منصورہ سے نکلتا ہے اور عدالت میگزین جو کہ گوجرانوالہ سے شائع ہوتا ہے۔ان دونوں میں کئی سال تواتر سے لکھا۔عدالت میگزین سے بیسٹ رائٹر ایوارڈ بھی ملا۔اسی رائٹنگ سیل کی بطور ادارت فرائض سرانجام دیتے ہوئے ایک مجلہ بھی شائع ہوا،بعد ازاں اس کی چیف ہیڈ کے فرائض سرانجام دیئے۔پنجاب یونیورسٹی سے جب ایم اے کیا تو مقابلہ مضمون نویسی میں میری سیکنڈ پوزیشن تھی۔لکھنے لکھانے کا شوق ت...