اشاعتیں

فروری, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

تقدیر کے فیصلوں کی رات: ایک علمی و تحقیقی تجزیہ

تصویر
    تقدیر کے فیصلوں کی رات: ایک علمی و تحقیقی تجزیہ عوامی حلقوں میں یہ بات بہت مشہور ہے کہ تقدیر کے فیصلے 15 شعبان یعنی شبِ برات کو ہوتے ہیں، لیکن جب ہم قرآنِ مجید کی آیات کا گہرائی سے مطالعہ کرتے ہیں، تو حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ قرآن کی نصِ قطعی یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ تمام فیصلے درحقیقت لیلۃ القدر (شبِ قدر) میں ہوتے ہیں۔ قرآن کی روشنی میں دلائل قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے تقدیر کے فیصلوں اور اپنے احکامات کے نزول کو واضح طور پر بیان فرمایا ہے:  * سورۃ القدر کی گواہی: "تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ"    (اس میں فرشتے اور روح (جبریل) ہر امر کے ساتھ نازل ہوتے ہیں، اپنے رب کے حکم سے۔)    یہ آیت واضح کرتی ہے کہ کائنات کے انتظامی معاملات اور فیصلے اسی رات فرشتوں کے حوالے کیے جاتے ہیں۔  * سورۃ الدخان کی صراحت:    "إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ... فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ"    (ہم نے اسے ایک بابرکت رات میں اتارا... اسی رات میں ہر حکمت والا معاملہ طے کیا ج...

دل کا قبلہ افسانہ

تصویر
   افسانہ دل کا قبلہ جب احمد کی دکان پر پہلی بار روشنی لگی تو گلی والوں نے صرف ایک بات نوٹ کی— وہ مسکرا رہا تھا۔ یہ مسکراہٹ عام سی تھی، نہ شور، نہ اعلان۔ بس جیسے کسی نے دل کے اندر چراغ جلا لیا ہو اور روشنی آنکھوں تک آ گئی ہو۔ اسی گلی میں سلیم بھی رہتا تھا۔ سلیم کی آنکھوں نے روشنی دیکھی تو دل نے اندھیرا محسوس کیا۔ “اچھا… کاروبار چل نکلا؟” سلیم نے کہا، مگر لہجے میں دعا نہیں تھی، حساب تھا۔ احمد نے سر جھکا کر کہا: “اللہ کا کرم ہے۔” یہ جملہ سلیم کو ہمیشہ کھٹکتا تھا۔ کیونکہ سلیم نے زندگی کو کبھی “کرم” کے زاویے سے نہیں دیکھا تھا، وہ ہمیشہ بندوبست کے زاویے سے دیکھتا تھا۔ وقت گزرا۔ ایک دن احمد کی دکان پر آگ لگ گئی۔ شعلے خاموش نہیں تھے، مگر احمد خاموش تھا۔ وہ راکھ میں کھڑا تھا، آنکھوں میں آنسو تھے، مگر دل میں شور نہیں تھا۔ اسی شام سلیم گلی میں لوگوں کو بتا رہا تھا: “میں نے تو پہلے ہی سوچ رکھا تھا، اسی لیے میں نے رسک نہیں لیا۔ دیکھا؟ عقل مند وہی ہوتا ہے جو پہلے بندوبست کر لے۔” کہتے ہوئے اس کے ہونٹ مسکرا رہے تھے۔ یہ وہ مسکراہٹ تھی جو کسی کی کامیابی سے نہیں، کسی کے جلنے سے پیدا ہ...

رمضان 2026 کی تیاریاں: روحانی، جسمانی اور انتظامی رہنمائی

تصویر
  رمضان 2026 کی تیاریاں: روحانی، جسمانی اور انتظامی رہنمائی فروری 2026 کا مہینہ اپنے ساتھ رحمتوں اور برکتوں کا وہ عظیم الشان موسم لے کر آ رہا ہے جس کا ہر مسلمان کو شدت سے انتظار ہوتا ہے۔ رمضان المبارک 2026 محض ایک مہینہ نہیں بلکہ یہ اپنی روح کو پاک کرنے، گناہوں سے توبہ کرنے اور اللہ تعالیٰ سے ٹوٹا ہوا تعلق دوبارہ جوڑنے کا ایک سنہری موقع ہے۔ خاص طور پر امریکہ، یورپ اور پاکستان میں مصروف طرزِ زندگی گزارنے والے مسلمانوں کے لیے رمضان کی پیشگی تیاری (Pre-Ramadan Planning) انتہائی ضروری ہے تاکہ اس مبارک مہینے کا ایک لمحہ بھی ضائع نہ ہو۔ 1. روحانی تیاری: دل کی زمین کو ہموار کریں رمضان کی تیاری کا اصل مقصد اپنے دل کو اللہ کی عبادت کے لیے تیار کرنا ہے۔ اگر ہم شعبان کے مہینے سے ہی اپنی تربیت شروع نہیں کریں گے، تو رمضان کے ابتدائی دن صرف جسمانی تھکن اور بھوک پیاس کی نذر ہو جائیں گے۔  * توبہ اور استغفار: اپنے پچھلے گناہوں پر ندامت کے ساتھ اللہ سے معافی مانگیں تاکہ رمضان کا آغاز ایک پاکیزہ روح کے ساتھ ہو۔  * نیت کی درستی: یہ عزم کریں کہ یہ رمضان آپ کی زندگی کا سب سے بہترین رمضان ہوگا۔...

دل کے صحن میں روشنی کے بیج

تصویر
دل کے صحن میں روشنی کے بیج وہ آنکھیں جو رو نہیں سکتیں، آہستہ آہستہ ویران ہو جاتی ہیں۔ یہ بات اس نے بہت دیر سے سیکھی تھی۔ شہر کے ایک خاموش محلے میں، پرانے درختوں کے سائے تلے، زینب کا گھر تھا۔ گھر نہیں، ایک ٹھہرا ہوا لمحہ۔ دیواروں پر نمی کے نشان تھے، جیسے وقت نے بھی یہاں آ کر سانس روک لی ہو۔ زینب کی آنکھیں خشک تھیں، مگر دل… دل میں ایک عجیب سی وحشت بسی رہتی تھی، جیسے کسی خالی کمرے میں اندھیرا بولنے لگے۔ وہ وضو کرتی تھی۔ روز۔ پانی چہرے کو چھوتا، ہاتھوں سے بہتا، مگر اندر کہیں کچھ نہ دھلتا۔ وہ جانتی تھی کہ مسئلہ پانی کا نہیں، نیت کا ہے۔ سمجھنے کے لیے اندر کی صفائی ضروری تھی۔ ایک دن اس نے اپنی ماں کی پرانی ڈائری کھولی۔ پیلے اوراق، کمزور تحریر، مگر لفظوں میں عجیب سی تازگی۔ ایک جگہ لکھا تھا: “دل اگر دل والے سے خالی ہو جائے تو اس میں کچھ اور آ بسـتا ہے۔ پھر وہ کچھ انسان نہیں رہنے دیتا۔” زینب نے ڈائری بند کر دی۔ اسے یوں لگا جیسے کسی نے اس کے دل کے دروازے پر دستک دی ہو۔ اسی رات خواب میں اس نے ایک صحن دیکھا۔ بڑا، روشن، مگر خالی۔ صحن کے بیچوں بیچ ایک کاسہ رکھا تھا۔ کوئی آواز آئی: “...