تقدیر کے فیصلوں کی رات: ایک علمی و تحقیقی تجزیہ
تقدیر کے فیصلوں کی رات: ایک علمی و تحقیقی تجزیہ عوامی حلقوں میں یہ بات بہت مشہور ہے کہ تقدیر کے فیصلے 15 شعبان یعنی شبِ برات کو ہوتے ہیں، لیکن جب ہم قرآنِ مجید کی آیات کا گہرائی سے مطالعہ کرتے ہیں، تو حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ قرآن کی نصِ قطعی یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ تمام فیصلے درحقیقت لیلۃ القدر (شبِ قدر) میں ہوتے ہیں۔ قرآن کی روشنی میں دلائل قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے تقدیر کے فیصلوں اور اپنے احکامات کے نزول کو واضح طور پر بیان فرمایا ہے: * سورۃ القدر کی گواہی: "تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ" (اس میں فرشتے اور روح (جبریل) ہر امر کے ساتھ نازل ہوتے ہیں، اپنے رب کے حکم سے۔) یہ آیت واضح کرتی ہے کہ کائنات کے انتظامی معاملات اور فیصلے اسی رات فرشتوں کے حوالے کیے جاتے ہیں۔ * سورۃ الدخان کی صراحت: "إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ... فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ" (ہم نے اسے ایک بابرکت رات میں اتارا... اسی رات میں ہر حکمت والا معاملہ طے کیا ج...